ناول: سایہِ نور باب 1: سائے جو ساتھ چلتے ہیں
ناول: سایہِ نور
باب 1: سائے جو ساتھ چلتے ہیں
رات کے پچھلے پہر، آسمان پر چمکتے ستارے مدھم ہو رہے تھے۔ لاہور کی پرانی گلیوں میں ایک پراسرار خاموشی تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا راز سانس لے رہا ہو۔ گلی نمبر 17 میں، ایک پرانا کتب خانہ اپنی جگہ خاموش کھڑا تھا—وہ کتب خانہ جہاں صالحہ سعید کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔
"تم سچ میں یہ کیس لینا چاہتی ہو؟" مہد نے حیرت سے پوچھا۔
"ہاں، یہ میرے کیریئر کا سب سے بڑا موقع ہے۔" صالحہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
صالحہ سعید، 26 سالہ تحقیقاتی صحافی، ہمیشہ حقیقت کو کھوجنے میں لگی رہتی تھی۔ وہ سائنس پر یقین رکھتی تھی، روحانیت کو صرف ایک تصور سمجھتی تھی، اور معجزات پر ہنستی تھی۔ لیکن اس رات، جب وہ کتب خانے میں داخل ہوئی، تو اس کا سامنا ایک ایسی چیز سے ہوا جس نے اس کی ساری سوچیں بدل کر رکھ دیں۔
پہلا اشارہ
کتب خانے کے اندھیرے کونے میں، ایک پرانی میز پر ایک بند کتاب رکھی تھی، جس کے سرورق پر کوئی عنوان نہیں تھا۔ جیسے ہی سائرہ نے اسے کھولا، اندر کے صفحات پر عجیب و غریب الفاظ تحریر تھے۔
"جو اس کتاب کو پڑھے گا، اسے اپنے سوالوں کے جواب ملیں گے، مگر ہر جواب کے ساتھ ایک نیا سوال جنم لے گا..."
صالحہ کے ماتھے پر شکن پڑی۔ یہ کیا تھا؟ کوئی فلسفیانہ تحریر یا کوئی پرانا مذہبی مسودہ؟
"یہ کتاب کہاں سے آئی؟" اس نے لائبریرین سے پوچھا۔
بوڑھے شخص نے آنکھیں سکیڑیں، جیسے کوئی پرانا راز یاد کر رہا ہو۔ "یہ کتاب ہمیشہ یہاں رہی ہے... اور ہمیشہ اسی کو ملتی ہے جو اس کی تلاش میں نہیں ہوتا۔"
"مطلب؟"
"یہ تمہیں خود ڈھونڈ چکی ہے، بیٹی۔"
روشنی اور سایہ
صالحہ نے وہ کتاب اٹھائی اور جیسے ہی پہلی لائن پڑھی، اسے لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ارد گرد کی روشنی ماند پڑ گئی، اور ہوا میں سرگوشیوں کی گونج سنائی دی۔
"کچھ سائے ہمیشہ تمہارے ساتھ چلتے ہیں، مگر تمہیں دکھائی نہیں دیتے..."
صالحہ نے تیزی سے آنکھیں جھپکائیں۔ یہ کیا تھا؟ کوئی تخیل، یا حقیقت؟
وہ جلدی سے کتاب بند کر کے باہر نکل آئی، لیکن باہر آ کر وہ ٹھٹھک گئی۔ سامنے کھڑا شخص... وہ اسے کہیں پہلے دیکھ چکی تھی۔
"صالحہ... تم نے وہ کتاب پڑھ لی؟"
یہ کون تھا؟ اور وہ اس کے بارے میں کیسے جانتا تھا؟
(جاری ہے...)

Comments
Post a Comment